
وہ شخص جو ڈیڑھ سو سال جینے کی تیاری کر چکا تھا…
صرف تیس منٹ میں دنیا سے رخصت ہو گیا۔"
مائیکل جیکسن: فطرت سے جنگ کی کہانی
مائیکل جیکسن ایک ایسا انسان تھا جو نظامِ فطرت کو شکست دینا چاہتا تھا۔ اسے چار چیزوں سے شدید نفرت تھی: اپنے سیاہ رنگ سے، گمنامی سے، اپنے ماضی سے، اور عام انسانوں کی طرح محدود عمر سے۔ وہ گوروں کی طرح دکھائی دینا چاہتا تھا، دنیا کا سب سے مشہور انسان بننا چاہتا تھا، اپنے ماضی کو مٹا دینا چاہتا تھا، اور ڈیڑھ سو سال تک زندہ رہنے کا خواب دیکھتا تھا۔
اس کی آنے والی پوری زندگی انہی خواہشوں کی تکمیل میں گزری۔ 1982ء میں اس نے اپنا مشہور البم Thriller لانچ کیا، جو دنیا کا سب سے زیادہ فروخت ہونے والا البم بن گیا۔ ایک ہی ماہ میں کروڑوں کاپیاں فروخت ہوئیں اور مائیکل جیکسن دنیا کا مشہور ترین گلوکار بن گیا۔ یوں اس نے گمنامی کو شکست دے دی۔
اس کے بعد اس نے اپنی رنگت کو شکست دینے کا فیصلہ کیا۔ امریکہ اور یورپ کے درجنوں چوٹی کے پلاسٹک سرجنز کی مدد سے اس نے مسلسل سرجریز کروائیں۔ 1987ء تک اس کی جلد، چہرہ، حرکات اور انداز مکمل طور پر بدل چکے تھے۔ سیاہ فام مائیکل کی جگہ ایک گورا، نازک اور نسوانی نقوش والا مائیکل جیکسن دنیا کے سامنے آ چکا تھا۔
پھر ماضی کی باری آئی۔ اس نے اپنے خاندان سے تعلق توڑ لیا، پتے بدلے، پرانے دوست چھوڑ دیے اور مصنوعی زندگی اختیار کر لی۔ اس نے خود کو مزید مشہور کرنے کے لیے لیزا میری پریسلے سے شادی کی، یورپ میں اپنے مجسمے نصب کروائے اور مصنوعی طریقہ تولید کے ذریعے اولاد حاصل کی۔ یوں وہ بڑی حد تک اپنے ماضی سے بھی بھاگ نکلا، مگر تنہائی اور مصنوعی پن میں مزید دھنس گیا۔
اب آخری خواہش باقی تھی: طویل عمر۔ مائیکل جیکسن نے ڈیڑھ سو سال زندہ رہنے کے لیے غیر معمولی احتیاطی تدابیر اختیار کیں۔ وہ آکسیجن ٹینٹ میں سوتا، ماسک اور دستانے استعمال کرتا، مخصوص خوراک لیتا اور بارہ ڈاکٹر مستقل ملازم رکھتا تھا۔ اس نے یہاں تک کہ اپنے لیے اضافی اعضاء کے ڈونرز بھی تیار کر رکھے تھے تاکہ ضرورت پڑنے پر اعضا تبدیل کروائے جا سکیں۔
مگر پھر 25 جون کی رات آئی۔ اچانک سانس لینے میں دشواری ہوئی۔ بہترین ڈاکٹرز جمع ہوئے، کوششیں کی گئیں، مگر وہ شخص جو ڈیڑھ سو سال کی منصوبہ بندی کر چکا تھا، صرف پچاس برس کی عمر میں چند منٹوں میں دنیا سے رخصت ہو گیا۔ اس کی موت کی خبر نے گوگل کا سسٹم تک جام کر دیا۔
پوسٹ مارٹم نے ایک اور حقیقت آشکار کی۔ حد سے زیادہ احتیاط نے اس کے جسم کو کمزور ڈھانچے میں بدل دیا تھا۔ پلاسٹک سرجریز، درد کش ادویات اور انجیکشنز نے اسے بچایا نہیں۔ یوں مائیکل جیکسن کی زندگی ایک اعلان بن گئی کہ انسان دنیا فتح کر سکتا ہے، مگر تقدیر، موت اور اس کے لکھنے والے کو شکست نہیں دے سکتا۔
یہ کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ چاہے کوئی راک اسٹار ہو یا فرعون، وہ دو ٹن مٹی کے بوجھ سے نہیں بچ سکتا
کی ورڈز
مائیکل جیکسن کی کہانی، عبرت ناک انجام، انسانی زندگی کی حقیقت، موت کا وقت متعین ہے، پلاسٹک سرجری کے اثرات، مائیکل جیکسن کی موت کی وجہ، تقدیر اور انسان، Michael Jackson Life Story, MJ Death Mystery, Man who wanted to live 150 years, Lessons from Michael Jackson's Life, Reality of Life and Death