آئینِ پاکستان: پہلی سے ستائیسویں ترمیم تک کا مکمل تاریخی سفر (1974-2026)

پاکستان کا آئین، آئینی ترامیم، پاکستان کی سیاسی تاریخ، نظام حکومت، 26ویں آئینی ترمیم، 27ویں آئینی ترمیم، وفاقی آئینی عدالت، آئینی بنچ، دوسری ترمیم، ختم نبوت، آٹھویں ترمیم، صدر کا اختیار، خود حکومتی ترمیم، صوبائی خود مختاری، 25ویں ترمیم، فاٹا انضمام، پاکستان کی عدالت، عدالتی اصلاحات 2026، ConstitutionOfPakistan، PakistanPolitics، ConstitutionalAmendments، 27thAmendment، 26thAmendment، LawInPakistan، SupremeCourt، Pakistan2026

ابتدائی ترامیم (1974-1977)

پہلی ترمیم (مئی 1974): پاکستان کی حدود کی حد بندی اور بنگلہ دیش کو تسلیم کرنا۔

دوسری ترمیم (ستمبر 1974): قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا۔

تیسری ترمیم (فروری 1975): احتیاطی حراست کی مدت ایک ماہ سے بڑھا کر تین ماہ کر دی گئی۔

چوتھی ترمیم (نومبر 1975): اقلیتوں کے لیے پارلیمنٹ میں اضافی نشستیں اور احتیاطی حراست میں لیے گئے افراد کو ضمانت دینے کے لیے عدالتوں کا اختیار ختم کر دیا گیا۔

پانچویں ترمیم (1976): ہائی کورٹ کا دائرہ اختیار کم کر دیا گیا۔

چھٹی ترمیم (1976): سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججوں کی ریٹائرمنٹ کی عمر بالترتیب 65 اور 62 سال مقرر کی گئی۔

ساتویں ترمیم (1977): وزیر اعظم کو عوام سے براہ راست اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کا اختیار دیا گیا۔

ضیاء الحق اور نواز شریف کا دور حکومت (1985-1999)

آٹھویں ترمیم (1985): صدر کو اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار ملا (58-2B)۔

نویں ترمیم (1985): شریعت کو سپریم قانون بنانے کا بل (جو کبھی منظور نہیں ہوا)۔

دسویں ترمیم (1987): قومی اسمبلی کے اجلاسوں کے درمیان 130 دن کی حد مقرر کی گئی۔

گیارہویں ترمیم (1989): خواتین کی نشستوں کے حوالے سے (واپس لی گئی)۔

بارھویں ترمیم (1991): سنگین جرائم کے لیے خصوصی عدالتوں کا قیام۔

تیرھویں ترمیم (1997): صدر سے اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار واپس لے لیا گیا۔

چودھویں ترمیم (1997): پارلیمنٹ کے ممبران پر پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ دینے پر پابندی (ڈیفیکشن کلاز)۔

پندرہویں ترمیم (1998): شریعت بل (منظور نہیں ہو سکا)۔

سولہویں ترمیم (1999): سرکاری ملازمتوں میں کوٹہ سسٹم میں توسیع۔

مشرف اور زرداری دور (2003-2012)

سترھویں ترمیم (2003): صدر کا اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار بحال۔

اٹھارویں ترمیم (2010): صوبائی خودمختاری، صدر کے صوابدیدی اختیارات کا خاتمہ اور صوبہ سرحد کا نام بدل کر خیبر پختونخواہ رکھنا۔

انیسویں ترمیم (2011): ججوں کی تقرری کے عمل میں اصلاحات۔

بیسویں ترمیم (2012): آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے لیے نگراں حکومت کا قیام۔

حالیہ ترامیم (2015-2025)

اکیسویں ترمیم (2015): دہشت گردی کے خلاف فوجی عدالتوں کا قیام۔

بائیسویں ترمیم (2016): الیکشن کمیشن کے ارکان کے لیے اہلیت کے معیار کو تبدیل کر دیا گیا۔

تیسویں ترمیم (2017): فوجی عدالتوں کی مدت میں دو سال کی توسیع۔

چوبیسویں ترمیم (2017): نئی مردم شماری کی بنیاد پر نشستوں کی تقسیم۔

پچیسویں ترمیم (2018): فاٹا کا خیبرپختونخوا میں انضمام۔

چھبیسویں ترمیم (2024): عدالتی اصلاحات، چیف جسٹس کی تقرری اور آئینی بنچوں کا قیام۔

ستائیسویں ترمیم (نومبر 2025): وفاقی آئینی عدالت کا قیام اور فوجی قیادت کے ڈھانچے میں تبدیلیاں (چیف آف ڈیفنس فورسز کا عہدہ)۔

تفصیلی معلومات کے لیے آپ ترامیم کے مکمل مسودے سینیٹ آف پاکستان یا قومی اسمبلی کی ویب سائٹس پر دیکھ سکتے ہیں۔ 

کی ورڈز

پاکستان کا آئین، آئینی ترامیم، پاکستان کی سیاسی تاریخ، نظام حکومت، 26ویں آئینی ترمیم، 27ویں آئینی ترمیم، وفاقی آئینی عدالت، آئینی بنچ، دوسری ترمیم، ختم نبوت، آٹھویں ترمیم، صدر کا اختیار، خود حکومتی ترمیم، صوبائی خود مختاری، 25ویں ترمیم، فاٹا انضمام، پاکستان کی عدالت، عدالتی اصلاحات 2026، ConstitutionOfPakistan، PakistanPolitics، ConstitutionalAmendments، 27thAmendment، 26thAmendment، LawInPakistan، SupremeCourt، Pakistan2026

ایک تبصرہ شائع کریں

جدید تر اس سے پرانی

رابطہ فارم