وینزویلا پر امریکی حملہ....
نہ منشیات کے خلاف ہے،
نہ دہشتگردی کے خلاف،
نہ جمہوریت کے نام پر۔
یہ حملہ ایک چیز کے لیے ہے:
"امریکی ڈالر کی بقا"۔
اصل کہانی 1974 میں شروع ہوتی ہے۔
ہنری کسنجر اور سعودی عرب کے درمیان ایک معاہدہ ہوا:
دنیا میں فروخت ہونے والا ہر بیرل تیل صرف امریکی ڈالر میں ہوگا،
اور بدلے میں امریکہ عسکری تحفظ فراہم کرے گا۔
اسی ایک معاہدے نے
ڈالر کو عالمی معیشت کا محور بنا دیا۔
ہر ملک کو تیل خریدنے کے لیے ڈالر درکار ہوا۔
امریکہ نوٹ چھاپتا رہا،
دنیا کام کرتی رہی۔
یہی "پیٹروڈالر سسٹم"
امریکی طاقت کی اصل بنیاد ہے۔
طیارہ بردار جہاز نہیں،
فوجی اڈے نہیں،
بلکہ یہ نظام۔
اب مسئلہ وینزویلا ہے!
وینزویلا کے پاس...
303 ارب بیرل تیل ہے۔
دنیا کا سب سے بڑا ذخیرہ۔
سعودی عرب سے بھی زیادہ۔
دنیا کے کل تیل کا تقریباً 20 فیصد۔
اور وینزویلا نے کیا کیا؟
اس نے ڈالر میں تیل بیچنا بند کیا۔
یوان، یورو، روبل میں فروخت شروع کی۔
SWIFT
کو بائی پاس کیا
BRICS
میں شمولیت کی کوشش کی...
چین کے ساتھ براہ راست ادائیگی کے نظام بنائے۔
یعنی اس نے ڈالر کو چیلنج کیا۔
اور تاریخ ہمیں بتاتی ہے،
کہ اس کا انجام کیا ہوتا ہے۔
2000 میں...
صدام حسین نے اعلان کیا کہ عراق تیل یورو میں بیچے گا۔
2003 میں عراق پر حملہ ہوا۔
صدام مارا گیا۔
تیل دوبارہ ڈالر میں آ گیا۔
2009 میں...
قذافی نے سونے پر مبنی افریقی کرنسی "گولڈ دینار" کی بات کی۔
2011 میں..
نیٹو نے لیبیا کو تباہ کر دیا۔
قذافی قتل ہوا۔
گولڈ دینار دفن ہو گیا۔
اور اب مدورو۔
صدام اور قذافی دونوں سے پانچ گنا زیادہ تیل۔
فعال ڈی ڈالرائزیشن۔
چین، روس اور ایران کے ساتھ شراکت۔
یہ اتفاق نہیں۔
یہ ایک واضح پیٹرن ہے۔
پیٹروڈالر کو چیلنج کرو،
ریجیم چینج کا سامنا کرو۔
امریکی عہدیدار کھل کر کہہ رہے ہیں کہ وینزویلا کا تیل
'اصل میں امریکہ کا ہے'...
کیونکہ ایک صدی پہلے امریکی کمپنیوں نے وہاں کام کیا تھا۔
لیکن اصل مسئلہ اس سے بھی گہرا ہے۔
پیٹروڈالر پہلے ہی کمزور ہو چکا ہے۔
روس یوکرین کے بعد...
روبل اور یوان میں تیل بیچ رہا ہے۔
ایران برسوں سے نان ڈالر تجارت کر رہا ہے۔
سعودی عرب یوان پر بات کر رہا ہے۔
چین نے SWIFT کا متبادل CIPS بنا لیا ہے۔
BRICS
اپنا مالی نظام تشکیل دے رہا ہے۔
اگر وینزویلا
اپنے 303 ارب بیرل تیل کے ساتھ
BRICS
میں شامل ہو جاتا،
تو یہ عمل کئی گنا تیز ہو جاتا۔
اسی لیے یہ حملہ ہے!
پیغام سادہ ہے:
ڈالر کو چیلنج کرو، ہم بمباری کریں گے۔
مگر مسئلہ یہ ہے کہ یہ پیغام ڈی ڈالرائزیشن کو روک نہیں رہا،
بلکہ تیز کر رہا ہے۔
کیونکہ اب گلوبل ساؤتھ جان چکا ہے کہ ڈالر معاشی طاقت سے نہیں،
تشدد سے قائم ہے۔
اور جب کسی کرنسی کو بمباری کے سہارے زندہ رکھنا پڑے،
تو سمجھ لیجیے...
وہ کرنسی پہلے ہی مر چکی ہوتی ہے۔
وینزویلا آغاز نہیں۔
یہ بوکھلاہٹ کا آخری مرحلہ ہے۔
اب سوال یہ نہیں کہ دنیا جھکے گی یا نہیں۔
سوال یہ ہے کہ دنیا کب اس بلف کو کال کرے گی۔
یا نہیں!
